کچھ لوگوں کا خیال ہے اپنے ضمیر اور اپنے مزاج کے خلاف عمل کرنا گناہ ہے۔۔ ایسا ہرگز نہیں۔۔۔۔ گناہ اپنے مزاج کے خلاف عمل کرنے کا نام نہیں اللہ کے حکم کے خلاف عمل کرنے کا نام ہے۔۔ـ(واصف علی واصف
ہم سب لوگ حسینیت کے ماننے والے ہیں اور حسینیت کا پر چار بھی کرتے ہیں ،لیکن کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ہم سے تو کربلا کی اک سنت نماز، وہ بھی زندہ نہیں رہ پا رہی ۔۔۔
اے امام عالی مقام ،،،، ہم تیرے چاہنے والے ہیں لکین ہم سے آپ کی سنتوں پر عمل نہیں ہو پاتا ، ہم اپنے اپنے مصایب میں الجھے ہیں ، ہمارے پاس وقت نہیں ہے ،پہلے ہم سب غلطیوں کو ختم کرلیں ،پھر نماز شروع کریں گے،
گناہوں میں سب سے بڑا گناہ توبہ شکنی ہے۔۔۔ توبہ شکنی انسان کو اندر سے توڑ پھوڑ دیتی ہے۔۔۔ اس کا ظاہری وجود بے خراش ہو تب بھی اس کا اندر کا وجود قاش قاش ہو جاتا ہے (واصف علی واصف)
نیت کا گناہ نیت کی توبہ سے معاف ہوتا ہے۔۔۔ عمل کا گناہ عمل کی توبہ سے دور ہوتا ہے۔۔۔۔ تحریر کا گناہ تحریر کی توبہ سے ختم ہو جاتا ہے (واصف علی واصف)
جب ایسے مقام پر انسان پہنچے جہاں وہ اپنی توبہ پر استقامت نہ کر سکے تو اس کا طریقہ ٔعلاج یہ ہے کہ تُو اپنی توبہ کرتا جا‘تا کہ اگر موت آ جائے تو اس وقت تُو گناہ کی طرف جاتا ہوا نہ پایا جائے بلکہ توبہ میں پایا جائے۔
گناہ کا احساس پیدا ہو جاۓ تو گناہ سے نفرت ضرور پیدا ہو گی۔۔نفرت پیدا ہو جاۓ تو دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم پیدا ہو گا۔۔۔دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم ہی توبہ ہے۔۔۔اللہ کو گواہ بنا کر اپنی غلطی پر معزرت اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا وعدہ توبہ کہلاتا ہے
اگر انسان میں اپنی کامیابی کا سرور ختم ہو جاۓ۔۔۔اور اسے یاد آ جاۓ کہ اس نے کامیاب ہونے کے لۓ کتنے جھوٹ بولے تھے تو اسے ضرور توبہ کر لینی چاہیے