Showing posts with label Aqwal e Zariin. Show all posts
Showing posts with label Aqwal e Zariin. Show all posts

Thursday, 9 January 2014

تصوف اور دوسرے علموں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اور علم تو پہلے 

حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔ لیکن تصوف میں اس 

کے الٹ ہے ۔ اس میں پہلے عمل کیا جاتا ہے اور پھر علم حاصل ہونے لگتا ہے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 381

Wednesday, 21 December 2011

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا


میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ،


جب لوگوں کا یہ حال ہو جائے کہ وہ برائی دیکھنے


اور اسے بدلنے کی کوسش نہ کریں ،


ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں


تو قریب ہے کہ اللہ اپنے عذاب میں اس کو لپیٹ دیں ۔


خدا کی قسم تم پر لازم ہے کہ


بھلائی کا حکم دو


اور برائی سے روکو ۔


ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا ۔


جو تم میں سب سے بدتر ہوں گئے


اور وہ تم کو سخت تکلیف دیں گئے ۔


پھر تمہارے نیک لوگ اللہ سے دعائیں مانگے گئے مگر وہ قبول نہ ہوں گی ۔۔۔۔۔۔۔ ترمذی2178
دنیا میں کسی اچھے انسان کو تلاش کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود اچھے


بن جاؤ , ہو سکتا ہے کہ آپ کے اس عمل سے کسی اور کی تلاش ختم ہو جاۓ(امام حسن مجتبٰی ع)
حکیم لقما ن ایک دن اپنے شا گر دوں کو حکمت و دانا ئی کا درس دے رہے تھے ۔

ایک شخص سا منے آکر کھڑا ہو گیا ،دیر تک ان کی صورت پر غو ر کر تا رہا اور آخر پہچان کربو لا ۔
تم وہی آدمی ہو نا ں جو فلاں مقا م پر میرےسا تھ بکر یا ں چرایا کرتے تھے ۔
ہا ں میں وہی شخص ہو ں
تب اس نے متحیر ہو کر کہا ۔یہ مر تبہ تمہیں کیونکر حا صل ہو ا؟
لقما ن نے فرما یا ۔دو با توں سے
ـــــــــــ "ایک سچ بولنا اور دوسرا بلا ضرورت با ت نہ کر نا ۔"ــــــــــــ

Monday, 19 December 2011

میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ان کے پاس کوئی قیمتی چیز ہے تو وہ اس کی خوب حفاظت کرتے ہیں، پھر میں نے اس آیت پرغور کیا کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والاہے اور جو خدا کے پاس ہے وہ باقی رہنے والاہے۔ چنانچہ میں اپنی ہر قیمتی چیز کو خدا کے حوالے کردیتاہوں تاکہ وہ میرے لیے باقی رہے اور میرے کام آئے۔
ـــــــــــ
اما م غزالی
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ
" مجھے نئے کپڑوں میں دفن نہ کیا جائے ! نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق وہ ہیں جو زندہ اور برہنہ ہیں" ۔
ایک مرتبہ رابعہ بصری سے پوچھاگیاکہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں؟ رابعہ بصری نے جواب دیاکہ خدا کی محبت نے میرے دل میں اتنی جگہ ہی نہیں چھوڑی کہ اس میں کسی اورکی نفرت یامحبت سماسکے۔
اگر تو چاہتا ہے کہ دن کی طرح روشن ہو جاۓ،... تو اپنی ہستی کو اپنے دوست کے
سامنے جلا ڈال........!!


(مولانا روم )

Sunday, 18 December 2011

Dr. Azhar Waheed

٭
جن سے محبت ہو۔ ۔ ۔ اُنہیں متاثر کرنے کی ہر گزکوشش نہیں کرنی چاہئے ۔ ۔ ۔ متاثر ہونا مرعوب ہونا ہے ۔ ۔ ۔ اور مرعوبیت اپنایت کا غیر ہے۔ ۔ ۔ اور۔ ۔ ۔ یہ محبت کی غیرت کو گوارا نہیں ٭
موت ۔ ۔ ۔ عجیب ہے ۔ ۔ ۔ اوراِس کے معنی اس سے بھی عجیب تر!!۔ ۔ ۔ جیسے جیسے زندگی کے معنی بدلتے ہیں ۔ ۔ ۔ زندگی کے ساتھ موت کا رشتہ بدلتا ہے ۔ ۔ ۔ موت بھی اپنے معنی بدلنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ معنی بدلنے لگتی ہے ۔ ۔ ۔ یا کھولنے لگتی ہے
ایک وقتِ معین پراپنے اپنے حصے کی زندگی کا عرصہ بسر کرنے کے بعد اکثر لوگ مر جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ کچھ لوگ انتقال کرجاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور بعض کی رخصتی ہوتی ہے ۔اِس رخصتی کو وصال کہا جاتا ہے ۔ وصال اُسی کا ہوتا ہے جس کا محبوب اُس پار اُس کے لئے محوِ انتظار ہو۔ ۔ ۔
٭
ضبط۔ ۔ ۔ اختلاف کو اِفتراق بننے سے روکتاہے ۔ضبط کا ٹوٹنا ۔ ۔ ۔ ربط کا ٹوٹنا ہے ۔
٭
’میں ‘ کے اندر’’ میں‘‘۔ ۔ ۔ کثافت ہے ۔
’’میں ‘‘کے اندر ’’میں‘‘ رفع ہونے سے رفعت ملتی ہے ۔
٭
اپنے کلام میں معانی کی کمی کو الفاظ کی زیادتی کا سہارا نہ دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مبادا منافق کہلاؤ۔ ۔ ۔
٭
معانی ۔ ۔ ۔ روح کی ارتعاش سے پیدا ہونے والی ایک موج ہے ۔ ۔ ۔ اور اس موج میں بھی ایک موج ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ موج ، دل و دماغ کو بطور واسطہ استعمال کرتی ہے۔

Dr. Azhar Waheed.....Aqas e Khiyal






























Dr. Azhar Waheed.....Aqas e Khiyal






Dr. Azhar Waheed.....Dil Her Qatra




Dr. Azhar Waheed.....Aqas e Khiyal



Dr. Azhar Waheed.....Aqas e Khiyal


Dr. Azhar Waheed.....Aqas e Khiyal