Showing posts with label Wasif Ali Wasif. Show all posts
Showing posts with label Wasif Ali Wasif. Show all posts

Wednesday, 21 December 2011

نصیحت
کلاس روم میں سناٹا طاری تھا۔ طلبا کی نظریں کبھی استاد کی طرف اٹھتیں اور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔ استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔ سوال تھا ہی ایسا۔ استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر ایک لفظ کہے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر اپنا رخ طلبا کی طرف کرتے ہوئے پوچھا، ’’تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے ؟‘‘۔’’یہ ناممکن ہے ۔‘‘، کلاس کے سب سے ذہین طالبعلم نے آخر کار اس خاموشی کو توڑ تے ہوئے جواب دیا۔ ’’لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑ ے گا اور آپ اس لکیر کو چھونے سے بھی منع کر رہے ہیں ۔‘‘ باقی طلبا نے بھی گردن ہلا کر اس کی تائید کر دی۔ استاد نے گہری نظروں سے طلبا کو دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پچھلی لکیر کے متوازی مگر اس سے بڑ ی ایک اور لکیر کھینچ دی۔ جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ استاد نے پچھلی لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دیا تھا۔ طلبا نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑ ا سبق سیکھا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، ان کو بدنام کیے بغیر، ان سے حسد کیے بغیر، ان سے الجھے بغیر ان سے آگے نکل جانے کا ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر پیدا کیا ہے اس میں اپنا موازنہ دوسروں سے کر کے ان سے آگے بڑ ھنا انسان کی طبیعت میں شامل ہے ۔ اس کام کو کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دوسرے کو چھوٹا بنانے کی کوشش کی جائے۔ مگر ایسی صورت میں انسان خود بڑ ا نہیں ہوتا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں سے الجھے بغیر خود کو مضبوط، طاقتور اور بڑ ا بنانے پر توجہ دی جائے ۔ دوسرے اس شکل میں بھی چھوٹے ہوجاتے ہیں ، مگر اصل بات یہ ہے کہ اس عمل میں انسان خود بڑ ا ہوجاتا ہے۔ دوسروں سے الجھے بغیر آگے بڑ ھنا، خدا کی دنیا میں ترقی کا اصل طریقہ ہے۔ فرد اور قوم دونوں کے لیے دیرپا اور مستقل ترقی کا یہی واحد راستہ ہے ۔ جہاں رہیے اللہ کے بندوں کے لیے باعثِ آزار نہیں، باعثِ رحمت بن کر
دراصل مجاز بذات خود حقیقت ہے، اور یہ حقیقت اس وقت تک مجاز کہلاتی ہے، جب تک رقیب ناگوار ہو۔ جس محبت میں رقیب قریب اور ہم سفر ہو، وہ عشق حقیقی ہے۔ اپنا عشق، اپنا محبوب اپنے تک ہی محدود رکھا جائے تو مجاز، اور اگر اپنی محبت میں کائنات کو شریک کرنے کی خواہش ہو تو حقیقت۔ رانجھے کا عشق مجاز ہو سکتا ہے، لیکن وارث شاہ کا عشق حقیقت ہے۔ عشق حقیقی، عشق نور حقیقت ہے۔ یہ نور، جہاں سے بھی عیاں ہو گا، عاشق کے لیے محبوب ہو گا۔ عشق نبی عشق حقیقی ہے۔ عشق ال نبی ، عشق حقیقی ہے۔ عشق اصحاب نبی، عشق حقیقی ہے۔ اویس قرنی کا عشق حقیقی ہے۔ عشق رومی عشق حقیقی ہے۔ بلکہ اقبال کا عشق بھی عشق حقیقی ہی کہلائے گا۔
اہلِ ظاہر کیلئے جو مقام مقامِ صبر ہے ‘ اہلِ باطن کیلئے وہی مقام مقامِ شکر ہے
کوئی انسان اس وقت تک کسی کی تعریف نہیں کر سکتاجب تک وہ خودبھی اس تعریف کا اہل نہ ہوجائے۔کسی کی عظمت کا معترف ہونے والا خود بھی ایک عظمت کا حامل ہوتاہے … اور کسی انسان کی عظمت کا منکردراصل خود کسی تعریف کے قابل نہیں ہوتا۔ جو کسی انسان کا معترف نہیںہوتا‘ وہ خود معتبر نہیںہوتا۔
بات تعریف سننے کی نہیں … تعریف کرنے کی ہورہی ہے۔ تعریف کرنے کا مدعا اگر ذاتی مفادہے تو یہ خوشامد ہے۔ وہ تعریف جس میں علم اور محبت شامل ِ حال نہ ہو‘ جھوٹ کے زمرے میں آتی ہے …


شک ‘ ایمان کی نفی ہے۔ وسوسہ ‘ یقین کا گھُن ہے۔ اگر عاقبت اور خدا پر یقین نہ ہو ‘ تو خیال پراگندہ ہو جاتا ہے۔ پراگندہ خیال سماج میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ جب تک انسان کو اپنے عقیدے پر مکمل اعتماد اور اعتقاد نہ ہو ‘ وہ حقیقت کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے
اسلام مسلمانوں کی وحدتِ فکرو عمل کا نام ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت ہمیشہ اسلام کے قریب رہے گی۔ وحدتِ ملت سے جدا ہونے والا فرقہ اسلام سے جدا ہو جاتا ہے
انسان کی زند گی خواہ کتنی ہی آزاد اور لا تعلق ہو ‘ پا بند اورمتعلق رہتی ہے ۔انسان دوڑتا ہے ‘ لیکن فاصلوں کی حدود میں۔ انسان اُڑتا ہے اور خلا کی پہنا ئیو ں کے اند ر وہ ارض و سما وات کے اند ر ہی رہتا ہے ۔ انسان جب کسی طا قت کو نہیں مانتا ‘ وہ اُس وقت بھی اپنے انکار کی طا قت کے ما تحت ہو تا ہے ۔ انسا ن کو خو شیا ں تما م تر مسر تیں ‘ کسی نہ کسی غم کی زد میں ہو تی ہیں ۔ ہر غم خو شی بن کر آتا ہے اور ہر خو شی غم بن کر رخصت ہو جاتی ہے۔ بس خوشیوں نے رخصت ضرور ہو نا ہے ۔ پیا ری پیا ری ‘ اپنی بیٹیوں کی طرح _____ کیا کیاِ جا ئے !
دعاپراعتمادہی نیکی ہے۔
جب ہم تنہا اورخاموشی میں دعامانگتے ہیں تو ہم اس یقین کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ
ہماراللّہ تنہا ئی میں ہمارےپاس ہے
اور خاموشی کی زبان سمجھتا ہے۔
دعا میں خلوص آنکھوں کو پُرنم کر دیتا ہے
اوریہی آنسو دعا کی منظوری کی دلیل ہیں۔
دعا مومن کا سب سے بڑا سہاراہے۔
دعا نا ممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔
دعا آنے والی بلاءوں کو ٹال سکتی ہے۔
دعا میں بڑی قوت ہے۔
جب تک سینے میں ایمان ہے،
دعا پر یقین رہتا ہے۔
جس کا دعا پر یقین نہیں
اُس کے دل میں ایمان نہیں۔
اللّھ تعالٰی سےدعا کرنی چا ہیے
کہ وہ ہمیں دعاءوں کی افادیت سےمایوس نہ ہونے دے۔


اللّھ ہمیں اپنی درگاہ میں زیادہ سے زیادہ ہاتھ اُ ٹھانے،
بلانے،
دعا کرنےاورمانگنےکی توفیق عطا فرمائے۔
آمین۔ ثمہ آمین یارب العالمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, 19 December 2011

اِسلام میں قیادت کا تصور یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے حکم ہے کہ اللہ کی اطاعت کرو ‘ اللہ کے رسول مقبولﷺ کی اطاعت کرو اور اُولی الامر کی اطاعت کرو…. اُولی الامر کی بحث نہیں ….یہ بحث واقعہ کربلا سے ختم ہو گئی…….. اُولی الامر یزید نہیں تھا ، امام ؑ عالی مقام تھے …. اگر حاکمِ وقت کے اوصاف اِسلام کی منشا کے علاوہ ہوں تو اسے اُولی الامر نہ کہو…. اگر وہ اِسلام میں فرماں بردار ہے تو اس کے اُولی الامر ہونے پر غور کر لینا نامناسب تو نہیں….!
جو چیزیں آپ کو بہت پیاری ہیں اُن کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اگر پسندیدہ شے آپ نے دریا کے پار بھیج دی ہے تو آپ کا دریا کے پار جانا آسان ہو جاتا ہے۔ جن کا پسندیدہ مال موت کے پاس ہے اُن کا مرنا آسان ہے۔پیسہ اور اپنی پسند کی اشیاءکو آگے بھیجتے رہا کرو ‘ آپ کے لیے وہاں جانا آسان ہو جائے گا۔
ذوقِ سفر کاپیدا کرنا قیادت کا فرض ہے۔قائد کو چاہیے کہ وہ قوم میں بیداری کی روح پھونک د ے۔ذوقِ سفر‘ عطائے رحمانی ہے۔رحمتِ حق کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے کہ اے مہرباں اللہ!دے ہمیں کوئی حدی خواں جو زندگی پیدا کر دے اس قوم میں !!
مقدس الفاظ کو منزہ زبان میسر نہ ہو تو لفظ اپنی تاثیر کھو بیٹھتا ہے

منزل ہی تو ذوق ِسفر پیدا کرتی ہے اور ذوق ِ منزل رہنمائے سفر ہوتا ہے
اگر حال محفوظ ہوجاے تو سارا مستقبل محفوظ
اپنی ذات کا سفر کسی اور ذات کے تعاون کے بغیر ممکن ہی نہیں…یہ وسیلہ
ہی خود بینی کے لئے اہم ترین ذریعہ ہے۔خود شناسی نہ ہو تو خدا شناسی کا عمل ممکن
ہی نہیں… آئینہ ہی آنکھوں کو اپنے باطن میں اترنے کا راستہ بتاتا ہے۔
اگر آئینہ میسر نہ ہو توآنکھ خود کو دہر شناس سمجھ کر غرور میں مبتلا ہو جاتی ہے
اللہ تعالیّ نے حقاِئق کی جتنی وضاحت فرما دی ہے۔ وہ بندے کی ھدایت کے لیے


کافی ہے۔ زیادہ وضاحتوں کی خواہش سے گمراہی میں مبتلا ہونے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔


اللہ کریم سے یہ پوچھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ اس نے ایسا کیوں کیا اور


ویسا کیوں نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس ہمیں تیار رہنا چاہیے کہ اللہ ہم سے پوچھے


گا کہ ہم نے ایسا کیوں کیا اور ویسا کیوں ۔
شک ‘ ایمان کی نفی ہے۔ وسوسہ ‘ یقین کا گھُن ہے۔ اگر عاقبت اور خدا پر یقین نہ ہو ‘ تو خیال پراگندہ ہو جاتا ہے۔ پراگندہ خیال سماج میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ جب تک انسان کو اپنے عقیدے پر مکمل اعتماد اور اعتقاد نہ ہو ‘ وہ حقیقت کو کیسے تسلیم کر سکتا ہے
رات کی تا ریکی میں دور سےنظر آنے والا چر اغ روشنی تو نہیں دے سکتا لیکن ایسی کیفیا ت مر تب کر تا ہے ،کہ مسا فر ما یو سی سے نکل کر امید تک پہنچتا ہے اور امید سے یقین کی منز ل دو قد م پر ہیں۔