BlueEyed
page
Home
Urdu Books
Thursday, 9 January 2014
سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے
ہاں جو جفا بھی آپ نے کی قاعدے سے کی
ہاں ہم ہی کار بندِ اصولِ وفا نہ تھے
آئے تو یوں کے جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
کیوں دادِ غم ہم نے طلب کی، برا کیا
ہم سے جہاں میں کُشتہِ غم اور کیا نہ تھے
گر فکرِ زخم کی تو خطا وار ہیں کہ ہم
کیوں محو مدحِ خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
لب پر ہے تلخیِ ماہِ ایام ورنہ "فیض"
ہم تلخیِ کلام پہ مائل زرا نہ تھے
ثابت ہُوا ______ سکونِ دل و جاں کہیں نہیں ...
رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ...
اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے ...
یہ بھی قبول ہے کہ تجھے۔۔۔۔۔۔۔چھین لے کوئی ...
ہاں ٹھیک ہے ____ میں اپنی اَنا کا مریض ہوں ...
آخرمیرے مزاج میں ____ کیوں دخل دے کوئی ...
اک شخص کر رہا ہے ____ ابھی تک وفا کا ذکر ...
کاش اس زباں دراز کا ____ منہ نوچ لے کوئی ...
تصوف اور دوسرے علموں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اور علم تو پہلے
حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔ لیکن تصوف میں اس
کے الٹ ہے ۔ اس میں پہلے عمل کیا جاتا ہے اور پھر علم حاصل ہونے لگتا ہے ۔
اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 381
Wednesday, 8 January 2014
Newer Posts
Older Posts
Home
Subscribe to:
Posts (Atom)