Friday, 18 November 2011














الله کی رحمت سب کے لئے ھے۔۔۔۔۔۔۔سب کے انتظار میں ھے۔۔۔۔۔۔کوئی طالب دستک تو دے ۔۔۔۔۔۔دروازہ ضرور کھلے گا۔۔
قدم قدم پہ تھا اک مرحلہ میں کیا کرتا
طویل ہوتا گیافاصلہ میں کیا کرتا
ہر ایک شخص کو تھا زعم آگہی کتنا
بھٹک رہا تھا مگر قافلہ میں کیا کرتا
وہ آنسوءوں کی زبان جانتا نہ تھا واصف
مجھے بیاں کا نہ تھا حوصلہ میں کیا کرتا
میرے جہاں کا نصاب چہرے
میں پڑھ رہا ہوں کتاب چہرے
یہی جزا ہے یہی سزا ہے
ثواب چہرے عذاب چہرے
کہیں مجسم سوال ہیں یہ
کہیں سراپا جواب چہرے
بپا کریں گے جو حشر واصف
ابھی ہیں زیر نقاب چہرے
گروہ دو ہی ہوتے ہیں،ایک خیر کا اور دوسرا شر کا ،درمیان میں صرف منافقت ہوتی ہے اور منافقت دونوں طرف مقبول ہونا چاہتی ہے
آنسو صرف دل کی بے رحمی کی وجہ سے خشک ہوتے ہیں،اور دل کی بے رحمی کثرت گناہ کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔۔