Thursday, 9 January 2014


ثابت ہُوا ______ سکونِ دل و جاں کہیں نہیں ...

رشتوں میں ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ...

اے شخص اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے ...

یہ بھی قبول ہے کہ تجھے۔۔۔۔۔۔۔چھین لے کوئی ...

ہاں ٹھیک ہے ____ میں اپنی اَنا کا مریض ہوں ...

آخرمیرے مزاج میں ____ کیوں دخل دے کوئی ...

اک شخص کر رہا ہے ____ ابھی تک وفا کا ذکر ...

کاش اس زباں دراز کا ____ منہ نوچ لے کوئی ...

تصوف اور دوسرے علموں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اور علم تو پہلے 

حاصل کیے جاتے ہیں اور پھر ان پر عمل کیا جاتا ہے ۔ لیکن تصوف میں اس 

کے الٹ ہے ۔ اس میں پہلے عمل کیا جاتا ہے اور پھر علم حاصل ہونے لگتا ہے ۔ 

اشفاق احمد بابا صاحبا صفحہ 381