Thursday, 1 December 2011

اگر انسان میں اپنی کامیابی کا سرور ختم ہو جاۓ۔۔۔اور اسے یاد آ جاۓ کہ اس نے کامیاب ہونے کے لۓ کتنے جھوٹ بولے تھے تو اسے ضرور توبہ کر لینی چاہیے
دانا کی زندگی کا علم دانائی نہیں بلکہ دانا کی زندگی کا عمل دانائی ہے
اپنے حال پر افسوس کرنا ، اپنے آپ پر ترس کھانا ، اپنے آپ کو لوگوں میں قابل رحم ثابت کرنا الله کی نا شکر گزاری ہے . الله کسی انسان پر اس کی برداشت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا . بیمار اور لاغر روحیں ہمیشہ گلہ کرتی ہیں
اور صحت مند ارواح شکر .
زندگی پر تنقید ، خالق پر تنقید ہے اور یہ تنقید ایمان سے محروم کر دیتی ہے
انسان کے پاس اپنے لیے چند سا ل رہ جاتے ہیں۔ اسی مختصر عر صے میں انسان نے سب کچھ کر نا ہے۔بس کچھ نہیں کر سکتا ۔ وہ دیکھتا ہے کہ سفر ختم ہو چلا ہے اور دامنِ مراد خالی ہے ۔ وہ پھردیکھتا ہے ۔ اسے محسو س ہو تا ہے کہ یہ سب کچھ اُس کااپنا نہیں تھا ۔ وہ خود بھی اپنا نہیں تھا ۔ اسے بھیجنے والے نے اِسے اسی کا م کو بھیجا کہ جا ؤ اور پھر آجا ؤ _____ وہ اپنے خالی دامن میں رضا کے پھو ل بھر تا ہے اور پھر پکا ر اُٹھتا ہے
ا سی سے فقیر ی میں ہو ں میں امیر
رزق صرف یہ ہی نہیں کہ جیب میں مال ہو، بلکہ آنکھوں کی بینائ بھی رزق ہے، دماغ میں خیال رزق ہے، دل کا احساس رزق ہے، رگوں میں خون رزق ہے، یہ زندگی ایک رزق یے اور سب سے بڑھ کر ایمان بھی ایک رزق ہے۔۔۔
انسان سے دانستہ و نادانستہ غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اس لیے انسان کو استغفار کرتے رہنا چاہئے ۔ استغفار سے اللہ پاک کی بہت سی رحمتیں اترتی ہیں ۔ بلا شبہ اللہ تعالٰی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے ۔صبح و شام استغفار کو معمول بنا لیں ۔